Entrar
Entrar
Entrar
Selecione o idioma

Tafsir Ibn Kathir Tafsir: Hud Aia 35

11:35
ام يقولون افتراه قل ان افتريته فعلي اجرامي وانا بريء مما تجرمون ٣٥
أَمْ يَقُولُونَ ٱفْتَرَىٰهُ ۖ قُلْ إِنِ ٱفْتَرَيْتُهُۥ فَعَلَىَّ إِجْرَامِى وَأَنَا۠ بَرِىٓءٌۭ مِّمَّا تُجْرِمُونَ ٣٥
أَمۡﲴ
يَقُولُونَﲵ
ٱفۡتَرَىٰهُۖﲶﲷ
قُلۡﲸ
إِنِﲹ
ٱفۡتَرَيۡتُهُۥﲺ
فَعَلَيَّﲻ
إِجۡرَامِيﲼ
وَأَنَا۠ﲽ
بَرِيٓءٞﲾ
مِّمَّاﲿ
تُجۡرِمُونَﳀ
٣٥ﳁ
Ou dizem: Ele forjou isso. Dize: Se forjei isso, que caia sobre mim o castigo de meu pecado; porém, estou isento dosvossos pecados!
Tafsirs
Camadas
Lições
Reflexões
Respostas
Qiraat
Hadith
کفار کا الزام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جواب ٭٭

یہ درمیانی کلام اس قصے کے بیچ میں اس کی تائید اور تقریر کے لئے ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے کہ ” یہ کفار تجھ پر اس قرآن کے از خود گھڑ لینے کا الزام لگا رہے ہیں تو جواب دے کہ اگر ایسا ہے تو میرا گناہ مجھ پر ہے میں جانتا ہوں کہ اللہ کے عذاب کیسے کچھ ہیں؟ پھر کیسے ممکن ہے کہ میں اللہ پر جھوٹ افتراء گھڑ لوں؟ ہاں اپنے گناہوں کے ذمے دار تم آپ ہو “۔

صفحہ نمبر3837