تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tafsir Ibn Kathir التفسير: النحل آية 34

٣٤:١٦
فاصابهم سييات ما عملوا وحاق بهم ما كانوا به يستهزيون ٣٤
فَأَصَابَهُمْ سَيِّـَٔاتُ مَا عَمِلُوا۟ وَحَاقَ بِهِم مَّا كَانُوا۟ بِهِۦ يَسْتَهْزِءُونَ ٣٤
فَأَصَابَهُمۡﳋ
سَيِّـَٔاتُﳌ
مَاﳍ
عَمِلُواْﳎ
وَحَاقَﳏ
بِهِمﳐ
مَّاﳑ
كَانُواْﳒ
بِهِۦﳓ
يَسۡتَهۡزِءُونَﳔ
٣٤ﳕ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 16:33إلى 16:34
فرشتوں کا انتظار ٭٭

اللہ تبارک و تعالیٰ مشرکوں کو ڈانٹتے ہوئے فرماتا ہے کہ ” انہیں تو ان فرشتوں کا انتظار ہے جو ان کی روح قبض کرنے کے لیے آئیں گے تا قیامت کا انتظار ہے اور اس کے افعال و احوال کا -ان جیسے ان سے پہلے کے مشرکین کا بھی یہی وطیرہ رہا یہاں تک کہ ان پر عذاب الٰہی آ پڑے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت پوری کر کے، ان کے عذر ختم کر کے، کتابیں اتار کر، وبال میں گھر گئے۔ اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود انہوں نے اپنا بگاڑ لیا “۔

اسی لیے ان سے قیامت کے دن کہا جائے گا کہ «هَـٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنتُم بِهَا تُكَذِّبُونَ» [52-الطور:14] ‏ ” یہ ہے وہ آگ جسے تم جھٹلاتے رہے “۔

صفحہ نمبر4440