تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tafsir Ibn Kathir التفسير: الأعراف آية 130

١٣٠:٧
ولقد اخذنا ال فرعون بالسنين ونقص من الثمرات لعلهم يذكرون ١٣٠
وَلَقَدْ أَخَذْنَآ ءَالَ فِرْعَوْنَ بِٱلسِّنِينَ وَنَقْصٍۢ مِّنَ ٱلثَّمَرَٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ١٣٠
وَلَقَدۡﳃ
أَخَذۡنَآﳄ
ءَالَﳅ
فِرۡعَوۡنَﳆ
بِٱلسِّنِينَﳇ
وَنَقۡصٖﳈ
مِّنَﳉ
ٱلثَّمَرَٰتِﳊ
لَعَلَّهُمۡﳋ
يَذَّكَّرُونَﳌ
١٣٠ﳍ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
أنت تقرأ تفسيرًا لمجموعة الآيات 7:130إلى 7:131
اعمال کا خمیازہ ٭٭

اب آل فرعون پر بھی سختی کے مواقع آئے تاکہ ان کی آنکھیں کھلیں اور اللہ کے دین کی طرف جھکیں۔ کھیتیاں کم آئیں، قحط سالیاں پڑ گئیں، درختوں میں پھل کم لگے یہاں تک کہ ایک درخت میں ایک ہی کھجور لگی۔ یہ صرف بطور آزمائش تھا کہ وہ اب بھی ٹھیک ہو جائیں۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو راستی سے دشمنی ہو گئی۔ شادابی اور فراخی دیکھ کر تو اکڑ کر کہتے کہ یہ ہماری وجہ سے ہے اور خشک سالی اور تنگی دیکھ کر آواز لگاتے کہ یہ موسیٰ علیہ السلام اور مومنوں کی وجہ سے ہے۔

غلط خیال تھا۔ جب کہ مصیبتیں اور راحتیں اللہ کی جانب سے ہیں لیکن بےعملی کی باتیں بناتے رہے۔ ان کی بدشگونی ان کے بد اعمال تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر مصیبتیں لاتے تھے۔

صفحہ نمبر3041