تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
تسجيل الدخول
اختر اللغة

Tafsir Ibn Kathir التفسير: الأنعام آية 120

١٢٠:٦
وذروا ظاهر الاثم وباطنه ان الذين يكسبون الاثم سيجزون بما كانوا يقترفون ١٢٠
وَذَرُوا۟ ظَـٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ ١٢٠
وَذَرُواْﱢ
ظَٰهِرَﱣ
ٱلۡإِثۡمِﱤ
وَبَاطِنَهُۥٓۚﱥﱦ
إِنَّﱧ
ٱلَّذِينَﱨ
يَكۡسِبُونَﱩ
ٱلۡإِثۡمَﱪ
سَيُجۡزَوۡنَﱫ
بِمَاﱬ
كَانُواْﱭ
يَقۡتَرِفُونَﱮ
١٢٠ﱯ
تفاسير
الطبقات
فوائد
تدبرات
الإجابات
قراءات
الحديث
ظاہری اور باطنی گناہوں کو ترک کر دو ٭٭

چھوٹے بڑے پوشیدہ اور ظاہر، ہر گناہ کو چھوڑو۔ نہ کھلی بدکار عورتوں کے ہاں جاؤ نہ چوری چھپے بدکاریاں کرو، کھلم کھلا ان عورتوں سے نکاح نہ کرو جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔ غرض ہر گناہ سے دور رہو، کیونکہ ہر بدکاری کا برا بدلہ ہے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ گناہ کسے کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو تیرے دل میں کھٹکے اور تو نہ چاہے کہ کسی کو اس کی اطلاع ہو جائے ۔ [صحیح مسلم:2553] ‏

صفحہ نمبر2741